79. سورۃ النازعات - قرآن
- 1. ان (فرشتوں) کی قَسم جو (کافروں کی جان ان کے جسموں کے ایک ایک انگ میں سے) نہایت سختی سے کھینچ لاتے ہیں۔ (یا:- توانائی کی ان لہروں کی قَسم جو مادہ کے اندر گھس کر کیمیائی جوڑوں کو سختی سے توڑ پھوڑ دیتی ہیں)،
- 2. اور ان (فرشتوں) کی قَسم جو (مومنوں کی جان کے) بند نہایت نرمی سے کھول دیتے ہیں۔ (یا:- توانائی کی ان لہروں کی قَسم جو مادہ کے اندر سے کیمیائی جوڑوں کو نہایت نرمی اور آرام سے توڑ دیتی ہیں)،
- 3. اور ان (فرشتوں) کی قَسم جو (زمین و آسمان کے درمیان) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں۔ (یا:- توانائی کی ان لہروں کی قَسم جو آسمانی خلا و فضا میں بلا روک ٹوک چلتی پھرتی ہیں)،
- 4. پھر ان (فرشتوں) کی قَسم جو لپک کر (دوسروں سے) آگے بڑھ جاتے ہیں۔ (یا:- پھر توانائی کی ان لہروں کی قَسم جو رفتار، طاقت اور جاذبیت کے لحاظ سے دوسری لہروں پر سبقت لے جاتی ہیں)،
- 5. پھر ان (فرشتوں) کی قَسم جو مختلف اُمور کی تدبیر کرتے ہیں۔ (یا:- پھر توانائی کی ان لہروں کی قَسم جو باہمی تعامل سے کائناتی نظام کی بقا کے لئے توازن و تدبیر قائم رکھتی ہیں)،
- 6. (جب انہیں اس نظامِ کائنات کے درہم برہم کردینے کا حکم ہوگا تو) اس دن (کائنات کی) ہر متحرک چیز شدید حرکت میں آجائے گی،
- 7. پیچھے آنے والا ایک اور زلزلہ اس کے پیچھے آئے گا،
- 8. اس دن (لوگوں کے) دل خوف و اضطراب سے دھڑکتے ہوں گے،
- 9. ان کی آنکھیں (خوف و ہیبت سے) جھکی ہوں گی،
- 10. (کفّار) کہتے ہیں: کیا ہم پہلی زندگی کی طرف پلٹائے جائیں گے،
- 11. کیا جب ہم بوسیدہ (کھوکھلی) ہڈیاں ہو جائیں گے (تب بھی زندہ کیے جائیں گے)،
- 12. وہ کہتے ہیں: یہ (لوٹنا) تو اس وقت بڑے خسارے کا لوٹنا ہوگا،
- 13. پھر تو یہ ایک ہی بار شدید ہیبت ناک آواز کے ساتھ (کائنات کے تمام اَجرام کا) پھٹ جانا ہوگا،
- 14. پھر وہ (سب لوگ) یکایک کھلے میدانِ (حشر) میں آموجود ہوں گے،
- 15. کیا آپ کے پاس موسٰی (علیہ السلام) کی خبر پہنچی ہے،
- 16. جب ان کے رب نے طوٰی کی مقدّس وادی میں انہیں پکارا تھا،
- 17. (اور حکم دیا تھا کہ) فرعون کے پاس جاؤ وہ سرکش ہو گیا ہے،
- 18. پھر (اس سے) کہو: کیا تیری خواہش ہے کہ تو پاک ہو جائے،
- 19. اور (کیا تو چاہتا ہے کہ) میں تیرے رب کی طرف تیری رہنمائی کروں تاکہ تو (اس سے) ڈرنے لگے،
- 20. پھر موسٰی (علیہ السلام) نے اسے بڑی نشانی دکھائی،
- 21. تو اس نے جھٹلا دیا اور نافرمانی کی،
- 22. پھر وہ (حق سے) رُوگرداں ہو کر (موسٰی علیہ السلام کی مخالفت میں) سعی و کاوش کرنے لگا،
- 23. پھر اس نے (لوگوں کو) جمع کیا اور پکارنے لگا،
- 24. پھر اس نے کہا: میں تمہارا سب سے بلند و بالا رب ہوں،
- 25. تو اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کی (دوہری) سزا میں پکڑ لیا،
- 26. بیشک اس (واقعہ) میں اس شخص کے لئے بڑی عبرت ہے جو (اللہ سے) ڈرتا ہے،
- 27. کیا تمہارا پیدا کرنا زیادہ مشکل ہے یا (پوری) سماوی کائنات کا، جسے اس نے بنایا،
- 28. اس نے آسمان کے تمام کرّوں (ستاروں) کو (فضائے بسیط میں پیدا کر کے) بلند کیا، پھر ان (کی ترکیب و تشکیل اور افعال و حرکات) میں اعتدال، توازن اور استحکام پیدا کر دیا،
- 29. اور اُسی نے آسمانی خلا کی رات کو (یعنی سارے خلائی ماحول کو مثلِ شب) تاریک بنایا، اور (اِس خلا سے) ان (ستاروں) کی روشنی (پیدا کر کے) نکالی،
- 30. اور اُسی نے زمین کو اِس (ستارے: سورج کے وجود میں آجانے) کے بعد (اِس سے) الگ کر کے زور سے پھینک دیا (اور اِسے قابلِ رہائش بنانے کے لئے بچھا دیا)،
- 31. اسی نے زمین میں سے اس کا پانی (الگ) نکال لیا اور (بقیہ خشک قطعات میں) اس کی نباتات نکالیں،
- 32. اور اسی نے (بعض مادوں کو باہم ملا کر) زمین سے محکم پہاڑوں کو ابھار دیا،
- 33. (یہ سب کچھ) تمہارے اور تمہارے چوپایوں کے فائدہ کے لئے (کیا)،
- 34. پھر اس وقت (کائنات کے) بڑھتے بڑھتے (اس کی انتہا پر) ہر چیز پر غالب آجانے والی بہت سخت آفتِ (قیامت) آئے گی،
- 35. اُس دن انسان اپنی (ہر) کوشش و عمل کو یاد کرے گا،
- 36. اور ہر دیکھنے والے کے لئے دوزخ ظاہر کر دی جائے گی،
- 37. پھر جس شخص نے سرکشی کی ہوگی،
- 38. اور دنیاوی زندگی کو (آخرت پر) ترجیح دی ہوگی،
- 39. تو بیشک دوزخ ہی (اُس کا) ٹھکانا ہوگا،
- 40. اور جو شخص اپنے رب کے حضور کھڑا ہونے سے ڈرتا رہا اور اُس نے (اپنے) نفس کو (بری) خواہشات و شہوات سے باز رکھا،
- 41. تو بیشک جنت ہی (اُس کا) ٹھکانا ہوگا،
- 42. (کفّار) آپ سے قیامت کے بارے میں پوچھتے ہیں کہ اس کا وقوع کب ہوگا،
- 43. تو آپ کو اس کے (وقت کے) ذکر سے کیا غرض،
- 44. اس کی انتہا تو آپ کے رب تک ہے (یعنی ابتداء کی طرح انتہاء میں بھی صرف وحدت رہ جائے گی)،
- 45. آپ تو محض اس شخص کو ڈر سنانے والے ہیں جو اس سے خائف ہے،
- 46. گویا وہ جس دن اسے دیکھ لیں گے تو (یہ خیال کریں گے کہ) وہ (دنیا میں) ایک شام یا اس کی صبح کے سوا ٹھہرے ہی نہ تھے،